5 جولائی 2011 - 19:30

ایسےعالم میں جب فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ پرصہیونی فوجیوں کےحملےجاری ہیں، فلسطینی انتظامیہ کےحکام صہیونی ریاست کےساتھ مذاکرات جاری رکھنےپرتاکیدکررہے ہیں،

 ابنا: صہیونی ریاست کےساتھ سازبازکےعمل پراحتجاج کاسلسلہ بھی جاری ہے اوراس سلسلےمیں فلسطین کی قومی جدت عمل کمیٹی کےسکریٹری مصطفی برغوثی نے صہیونی ریاست کےخلاف ہرقسم کےمذاکرات کولاحاصل قراردیاہے۔ مصطفی برغوثی نےکہاکہ غاصب صہیونی ریاست کےساتھ مذاکرات فلسطینی علاقوں میں صہیونی کالونیوں کی تعمیرجاری رکھنےکاایک بہانہ ہے۔مصطفی برغوثی نےمطالبہ کیاکہ صہیونی ریاست پرعالمی دباؤ بڑھناچاہئےتاکہ یہ حکومت اپنےتوسیع پسندانہ مقاصدسےدست بردارہوجائے۔ صہیونی ریاست نےاعلان کیاہےکہ مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن میں وہ سیکڑوں رہائشی کامپلکس تعمیرکررہی ہے۔ سن دوہزارگیارہ کو صہیونی ریاست کےساتھ سازبازمذاکرات کی ناکامی نمایاں ہوجاکاسال قراردیناچاہئے۔ مشرق وسطی میں سازبازمذاکرات میں صہیونی ریاست  کی کارکردگی سےثابت ہوگیاکہ وہ علاقےمیں امن نہيں چاہتی اورسازبازمذاکرات کواپنےمطالبات منوانےکےلئےصرف ہتھیکنڈےکےطورپراستعمال کررہی ہے۔ اوراسی بناپرفلسطینی عوام اورفلسطینی شخصیتوں نےہمیشہ سازبازکےعمل کی مخالفت کی ہے۔درحقیقت سازبازکاعمل صہیونی ریاست کےجرائم اورتسلط پسندانہ پالیسیوں پرپردہ ڈالنےکاہتھکنڈہ ہے۔فلسطینی علاقوں پرصہیونی حملوں میں اضافہ ، فلسطینیوں کاقتل عام اور گرفتاریاں اسی حقیقت کی تائیدکرتی ہيں۔مشرق وسطی میں سازبازکےعمل کےبرےنتائج سامنےآنےکےباوجودفلسطینی انتظامیہ امریکی اشارےپرغاصب صہیونی ریاست کےساتھ سازبازکےعمل پرتاکیدکرتی ہے۔ جبکہ صہیونی ریاست  کےسامنےاستقامت کی حکمت عملی جوتمام فلسطینیوں اورعلاقےکی قوموں کامطالبہ ہے، فلسطینی عوام کےلئےبہت سےثمرات ونتائج کی حامل رہی ہے۔سن دوہزارپانچ ميں صہیونی ریاست  کاغزہ سےپسپائی پرمجبورہونااوردوہزارنومیں غزہ پربائیس روزہ حملوں میں صہیونی ریاست کی شکست، فلسطینی عوام کی استقامت کانتیجہ ہے۔ فلسطینی عوام کی استقامت نہ صرف علاقےبالخصوص فلسطین میں صہیونی ریاست کی مزیدتسلط پسندی اورتوسیع پسندی رکنےکاباعث بنی ہےبلکہ اس سےفلسطینی علاقوں سے پسپائی اختیارکرنےکی زمین ہموارہوئی ہے۔ ان حالات میں فلسطینی عوام کوتوقع ہےکہ فلسطینی انتظامیہ صہیونی ریاست کےساتھ ہرقسم کاتعاون ختم کردے اوراس کےساتھ ہرطرح کےسازبازکےعمل پرنظرثانی کرتےہوئےاس کےسامنےڈٹ جانےکےلئےفلسطینی عوام کی صفوں میں شامل ہوجائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

169